حکومت سے نہیں صرف فوج سے مذاکرات ہوئے، خادم حسین رضوی
تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی نے انکشاف کیا ہے کہ مظاہرین کو ان کے مطالبات حکومت کی جانب سے پورے کروانے کی یقین دہانی فوج نے کرائی تھی۔
نجی ٹی وی چینل سماء ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے خادم حسین رضوی کا کہنا تھا کہ 'ہم نے حکومت سے کہا تھا کہ ہم آپ سے بات نہیں کرسکتے پھر فوج درمیان میں آگئی تھی اور ہمارے رہنماؤں نے فوج اور انٹر سروسز انٹیلی جنس کے افسران سے ملاقات کی تھی'۔
ان کا کہنا تھا کہ 'انہوں نے ہمیں بتایا کہ ہمارے تمام مطالبات کو پورا کیا جائے گا'۔
خادم حسین رضوی کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم وزیر داخلہ سے نہیں ملی تھی 'جن کے اس معاہدے پر دستخط ہیں'۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد دھرنا کئی ہفتے بعد ختم، کارواں روانہ
انہوں نے بتایا کہ 'فوج کے افسران نے ہی احسن اقبال سے اس معاہدے پر دستخط کروائے ہوں گے'۔
اسی دوران وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 'معاہدہ بہتر مفاد میں نہیں پیش آیا لیکن حکومت کے پاس اختیارات بہت کم تھے جبکہ ایسی ہی صورت حال اگلے 24 گھنٹے تک رہتی تو فسادات برپا ہوسکتے تھے'۔
Ahsan Iqbal
✔
@betterpakistan
Doc of completing dharna was not alluring but rather there was minimal decision becuz if circumstance had held on another 24 hrs there wud b riots
7:01 PM - Nov 28, 2017
385 Replies 245 Retweets 1,143 preferences
Twitter Ads information and protection
خیال رہے کہ ہفتوں تک جاری رہنے والے اس دھرنے نے وفاقی دار الخلافہ کو مفلوج کردیا تھا جس میں کئی لوگوں کی جانیں بھی گئیں تاہم حکومت نے مظاہرین کے آگے گھٹنے ٹیک دیے تھے اور وزیر قانون زاہد حامد کا استعفیٰ منظور کرلیا گیا تھا۔
وزیر قانون کا استعفیٰ فیض آباد پر مظاہرین کے خلاف ہفتے کے روز ہونے والے آپریشن کے بعد اتوار کی رات کو کامیاب مذاکرات کے بعد سامنے آیا تھا۔
واضح رہے کہ اس آپریشن کے دوران 6 افراد ہلاک جبکہ ایک سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
معاہدے میں کریک ڈاؤن کے دوران حراست میں لیے گئے تمام مظاہرین کو مقدمات سے استثنیٰ دینا بھی شامل تھا جبکہ حکومت اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف ایگزیکٹو کا حکم ماننے کے بجائے آرمی چیف ثالث بن گئے: جسٹس شوکت صدیقی
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے فوج کو مذکورہ معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے پر انتہائی سخت ریمارکس دیے تھے۔
جسٹس شوکت صدیقی کا کہنا تھا کہ 'آرمی چیف ملک کے چیف اگزیکٹو کا حکم ماننے کے بجائے ثالث بن گئے ہیں'۔
انہوں براہِ راست فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فوج اپنی آئینی حدود میں رہے کیونکہ اب عدلیہ میں جسٹس منیر کے پیروکار نہیں ہیں اور جن فوجیوں کو سیاست کا شوق ہے وہ حکومت کی دی ہوئی بندوق واپس کرکے ریٹائرڈ ہوجائیں اور سیاست کا شوق پورا کرلیں۔
0 comments:
Post a Comment