حدیبیہ پیرز ملز کیس: نیب نے عدالت میں نئی درخواست جمع کردی

حدیبیہ پیرز ملز کیس: نیب نے عدالت میں نئی درخواست جمع کردی
اسلام آباد: سپریم کورٹ میں زیر سماعت حدیبیہ پیرز مل کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے عدالت عظمیٰ سے اپیل میں تاخیر کو نظر انداز کر کے کیس دوبارہ کھولنے کی اجازت دینے کی استدعا کردی۔
نیب کی جانب سے ڈپٹی پروسیکیوٹر جنرل عمران الحق نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت حدیبیہ پیرز مل کیس دوبارہ کھولنے کے معاملے میں نئی درخواست دائر کی، جس میں نیب نے عدالتی حکم کے تین سال بعد اپیل دائر کرنے کا جواز پیش کیا۔
نیب کی درخواست میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف حدیبیہ کیس میں اپیل دائر کرنے پر اثر انداز ہوئے جبکہ ہائیکورٹ کی غلطی یا ججز کی غیر سنجیدگی کے باعث کیس کو تکنیکی بنیادوں پر خارج نہیں کیا جاسکتا۔
نیب نے عدالت عظمیٰ میں مؤقف اختیار کیا کہ کیس کی دوبارہ تحقیقات کی استدعا مسترد کرنا انصاف کو جھٹلانے کے مترادف ہوگا۔
نیب کی درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اپیل میں تاخیر کو نظر انداز کر کے کیس دوبارہ کھولنے کی اجازت دے۔
گذشتہ روز نیب کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس سے متعلق فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیل کی سماعت کے دوران عدالت نے ریفرنس کا مکمل ریکارڈ طلب کیا تھا۔
شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس سے متعلق دیئے گئے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کی سماعت سپریم کورٹ کے جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی تھی۔
گذشتہ روز سماعت کے دوران پروسیکیورٹر نے عدالت کو بتایا تھا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی تحقیقات میں اس کیس کے حوالے سے مزید دستاویزات اکٹھی کی ہیں اور والیم 8 اے حدیبیہ پیپرز ملز کیس سے متعلق ہے، جس کے بعد عدالت نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کا والیم 8 اے منگوا لیا تھا۔
اسپیشل پروسیکیوٹر نے عدالت عظمیٰ کو بتایا تھا کہ اسحٰق ڈار کے ذریعے جعلی بینک اکاونٹس کھولے گئے، شریف خاندان کی آمدن کم اور اثاثے زیادہ ہیں، ریفرنس کے دوران اسحٰق ڈار کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا تھا۔
انہوں نے عدالت عظمیٰ کو بتایا تھا کہ ملزمان کی واپسی پر مقدمہ احتساب عدالت میں دوبارہ شروع ہوا، این آر او کے تحت نواز شریف کی وطن واپسی الیکشن کے قریب ہوئی، 2008 میں عدالت نے از سر نو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کا اثرو رسوخ 2014 میں سامنے آیا، 2014 میں ہائیکورٹ نے ریفرنس خارج کردیا اور ہائی کورٹ نے نیب کو ازسرنو تحقیقات سے روکا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس سے متعلق تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 دسمبر تک کے لیے ملتوی کر دی تھی۔

حدیبیہ پیپر ملز کیس

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور اسحٰق ڈار کے خلاف نیب نے حدیبیہ پیپر ملز کا ریفرنس 2000 میں دائر کیا تھا، تاہم 2014 میں لاہور ہائی کورٹ نے یہ ریفرنس خارج کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا کہ نیب کے پاس ملزمان کے خلاف ثبوت کا فقدان ہے۔
پاناما کیس کی تحقیقات کے دوران سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے جے آئی ٹی کو حدیبیہ پیپر ملز کیس کا ریکارڈ جمع کرایا تھا، جس میں2000 میں اسحٰق ڈار کی جانب سے دیا جانے والا اعترافی بیان بھی شامل تھا۔
اسحٰق ڈار نے اس بیان میں شریف خاندان کے کہنے پر ایک ارب 20 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کرنے اور جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے کا مبینہ اعتراف کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے اپنے اس بیان کو واپس لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ بیان ان سے دباؤ میں لیا گیا۔

0 comments:

Post a Comment